عصری ذرائع ابلاغ اور قرآنی کے خاندانی نظام کا تحقیقی مطالعہ

نوع مقاله : مقاله پژوهشی

نویسنده

ایمرسن یونیورسٹی ملتان

چکیده

ملخص
اس تحقیقی مقالے میں عصری ذرائع ابلاغ خصوصاً کارٹونز اور ویڈیو گیمز کے بچوں اور خاندانی نظام پر مرتب ہونے والے اثرات کا قرآن و سنت کی روشنی میں جائزہ لیا گیا ہے۔ جدید ذرائع ابلاغ نے جہاں معلومات اور تفریح کے نئے مواقع فراہم کیے ہیں، وہیں بچوں کی ذہنی، اخلاقی، مذہبی اور سماجی تربیت پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ تحقیق کا بنیادی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ میڈیا کے مثبت پہلوؤں سے استفادہ کرتے ہوئے اس کے منفی اثرات سے کس طرح بچا جا سکتا ہے اور اسلامی تعلیمات اس حوالے سے کیا رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔
اس مطالعے میں مختلف معروف کارٹونز اور ویڈیو گیمز کے مواد، کرداروں اور ان کے بچوں کے رویوں پر اثرات کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ تشدد، جارحیت، غیر اسلامی ثقافتی اقدار، غیر ملکی زبانوں اور طرزِ زندگی کی تقلید، مذہبی و اخلاقی اقدار میں کمزوری اور والدین سے دوری جیسے رجحانات میڈیا کے بے اعتدال استعمال کے نمایاں نتائج ہیں۔ اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی سامنے آئی کہ والدین کی نگرانی، متوازن میڈیا استعمال اور مثبت تربیت ان منفی اثرات کو کافی حد تک کم کر سکتی ہے۔
مقالہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ اسلام تفریح کی نفی نہیں کرتا بلکہ ایسی تفریح کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جو اخلاقی، دینی اور تعلیمی مقاصد سے ہم آہنگ ہو۔ لہٰذا والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کی میڈیا سرگرمیوں کی نگرانی کریں، مفید اور تعمیری مواد کے انتخاب کو یقینی بنائیں اور قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق ان کی فکری، اخلاقی اور روحانی تربیت کریں تاکہ مضبوط خاندانی نظام اور متوازن شخصیت کی تشکیل ممکن ہو سکے۔

کلیدواژه‌ها

موضوعات


عنوان مقاله [English]

TEENAGERS' USE OF SOCIAL MEDIA: A RESEARCH STUDY IN THE CONTEMPORARY CONTEXT IN SHARI'A PERSPECTIVE

نویسنده [English]

  • Tayyaba Razzaq
Emerson University Multan
چکیده [English]

The use of social media platforms has undoubtedly changed the social, educational, and psychological experiences of adolescents in the modern day media landscape. In addition to being a great communication, learning, creativity, and information tool, social media has grown to be so frequently and overexploited that it is of health consideration, since It can lead to addiction, cyber bullying, misinformation, and a breach of privacy, moral decay and mental health issues. Dilemmas faced by Muslim adolescents not only relate to social and psychological responsibilities but also ethical and religious responsibilities, which are controlled by principles of Shure techniques or Sharia's. The current study aims to discuss the phenomenon of teenagers' use of social media from Islamic perspective and promote the consideration of goals of Sharia' (Masjid al-Sharia's) toward that phenomenon. The results suggest that social media is a technology that is neither good nor bad and its ethical implications relate to the way the technology is used. It also suggests the need for a joint parent-educator-religious scholar-policymaker initiative to promote ethical and responsible use of social media by Muslim young people.

کلیدواژه‌ها [English]

  • Digital media
  • youth
  • misinformation